Aria Guide

گھریلو ملازمت میں کارکن کی تنخواہ اور حکومتی سہولیات: پاکستانی تناظر

8 اپریل، 2026

پاکستان میں گھریلو ملازمین اور قانونی فریم ورک

فاطمہ 72 سال کی ہیں۔ پانچ سال سے ان کے گھر میں ایک گھریلو کارکن روزانہ چند گھنٹے کام کرنے آتی ہیں تاکہ روزمرہ کے کاموں میں ان کی مدد کر سکیں۔ جب فاطمہ نے سنا کہ ان کی ملازمہ کی تنخواہ کے علاوہ کچھ اضافی ذمہ داریاں بھی ہیں جنہیں وہ پوری کریں گی، تو وہ سوچ میں پڑ گئیں کہ آیا وہ اس مدد کو جاری رکھ پائیں گی۔ آج فاطمہ جاننا چاہتی ہیں کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین کے حوالے سے کیا قواعد و ضوابط ہیں اور کیا بہتری ممکن ہے۔

اگر آپ بھی اسی صورتحال میں ہیں، تو آپ تنہا نہیں ہیں۔ پاکستان میں ہزاروں خاندان گھریلو کارکنوں پر انحصار کرتے ہیں — چاہے وہ بوڑھے رشتہ داروں کی دیکھ بھال ہو، بچوں کی نگرانی ہو، یا گھر کے روزمرہ کام ہو۔ ان قواعد کو سمجھنا آپ کو بہتر منصوبہ بندی میں مدد دیتا ہے۔

پاکستان میں گھریلو ملازمین کی صورتحال کیا ہے؟

جب آپ کوئی گھریلو کارکن رکھتے ہیں — خواہ وہ ملازمہ ہو، کھانا پکانے والی ہو، ڈرائیور ہو، یا باغی ہو — تو آپ ایک کارفرما (employer) بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں گھریلو ملازمین کی ملازمت کا قانونی نظام ابھی تک مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوا ہے، لیکن کچھ اہم پیش رفت ہوئی ہیں۔

پنجاب میں “گھریلو ملازمین کا تحفظ (تین جے ایس ایچ) ایکٹ 2024” ایک اہم قدم ہے [پنجاب اسمبلی، 2024]۔ اس قانون کا مقصد گھریلو کارکنوں کو بنیادی حقوق اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس قانون کے تحت گھریلو ملازمین کو کم از کم اجرت، مناسب کام کے اوقات، اور کام کے محفوظ ماحول کا حق حاصل ہے۔

یہ اہم ہے کہ اس وقت پاکستان میں گھریلو ملازمین کے لیے فرانس جیسا کوئی مکمل سماجی بیمہ نظام نہیں ہے جہاں حکومت کارکن کے علاج یا پنشن میں مدد کرے۔ البتہ، نئے قوانین اس سمت پہلا قدم ہیں [BIDA / BISEJ]۔

موجودہ نظام اور چیلنجز

پاکستان میں اکثر گھریلو ملازمین کو درج ذیل سہولیات حاصل ہیں:

تاہم، بہت سے چیلنجز موجود ہیں:

یہ نظام گھریلو کارکنوں کی سماجی و مالی تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام ہے [Human Rights Watch / Aurat Foundation]۔

نئے قوانین اور اصلاحات کا جائزہ

پنجاب میں منظور شدہ “گھریلو ملازمین کا تحفظ (تین جے ایس ایچ) ایکٹ 2024” ایک اہم پیش رفت ہے [پنجاب اسمبلی، 2024]۔ اس قانون کے اہم نکات میں شامل ہیں:

تاہم، یہ قانون صرف پنجاب تک محدود ہے۔ سندھ، خیبر پختونخوا، اور بلوچستان میں ابھی تک اس قسم کا جامع قانون نافذ نہیں ہوا [BIDA / BISEJ]۔

گھریلو کارکنوں کے لیے سماجی بیمہ کے فوائد

فرانس جیسے ممالک میں حکومتی مدد سے گھریلو ملازمین کی سماجی بیمہ میں شرکت آسان ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس سلسلے میں کوششیں جاری ہیں:

بینکوں کی پنشن سکیم: مزدور تحفظ ایکٹ کے تحت، بعض صوبوں میں گھریلو ملازمین کو بینکوں کی پنشن سکیم میں شامل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں [EOBI]۔ البتہ، اس کی رفتار سست ہے اور زیادہ تر کارکن اس سے محروم ہیں۔

صحت کے فوائد: پاکستان کی متعدد نجی اور سرکاری صحت کی انشورنس اسکیمیں ہیں، لیکن گھریلو ملازمین کے لیے مخصوص کوئی جامع پروگرام نہیں ہے [سیاحت / ٹریول سے متعلق نہیں]۔

خاندانوں اور کارکنوں کے لیے سفارشات

اگر آپ گھریلو کارکن رکھتے ہیں یا رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو درج ذیل سفارشات مفید ہو سکتی ہیں:

آئندہ کی راہ

پاکستان میں گھریلو ملازمین کے حقوق کے حوالے سے بیداری بڑھ رہی ہے [Aurat Foundation]۔ “تین جے ایس ایچ ایکٹ” جیسے قوانین ایک اہم قدم ہیں، لیکن ان کو موثر طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔

خاندانوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گھریلو کارکنوں کے ساتھ انسانی سلوک نہ صرف اخلاقی فرض ہے بلکہ اس سے معیاری اور مستقل مزدوری بھی حاصل ہوتی ہے۔ جب کارکن محفوظ اور قدر شدہ محسوس کرتا ہے، تو وہ بہتر کام کرتا ہے اور گھر میں مثبت ماحول رہتا ہے۔

ذرائع

[پنجاب اسمبلی، 2024] Punjab Assembly. “Domestic Workers (Protection) Act 2024.” [BIDA / BISEJ] BIDA/BISEJ. “Domestic Workers in Pakistan: Current Status and Recommendations.” [Human Rights Watch / Aurat Foundation] حقوق کی تنظیمیں۔ “گھریلو ملازمین کی صورتحال پر رپورٹ۔” [EOBI] Employees Old-Age Benefits Institution. “پنشن سکیم اور رجسٹریشن کے طریقے۔”


نوٹ: یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے۔ قانونی مشورے کے لیے کسی معتبر وکیل یا مزدوری کے محکمے سے رابطہ کریں۔